ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زیرالتواء قیدیوں نے ہائی کورٹ کو لکھا خط، کورٹ نے دہلی حکومت کو تھمایا نوٹس

زیرالتواء قیدیوں نے ہائی کورٹ کو لکھا خط، کورٹ نے دہلی حکومت کو تھمایا نوٹس

Sat, 16 Mar 2019 20:48:56    S.O. News Service

نئی دہلی، 16 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) نچلی عدالتوں میں سالوں سال سے زیر التوا مقدمات کی تیزی سے سماعت کی مانگ کو لے کرزیر التواء قیدیوں کی جانب سے بھیجے گئے ایک خط کو دہلی ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی میں تبدیل کر دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راجندر مینن اور جسٹس ایجے بھبانی کی بنچ نے دہلی حکومت کو اس معاملے میں نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ 13 اگست تک وہ اس پر اپنا جواب داخل کرے۔

دراصل دہلی ہائی کورٹ کو کچھ وقت پہلے پانچ زیرالتواء قیدیوں کی جانب سے ایک خط ملا۔اس خط میں زیرالتواء قیدیوں نے اپنی شکایت میں بتایا کہ طویل وقت سے انہیں گرفتار کرنے کے بعد ان کے کیس میں بہت بارش گزرنے کے بعد بھی کچھ نہیں ہو پایا ہے،بھیجے گئے خط پر نوٹس لیتے ہوئے اب ہائی کورٹ نے اس خط پر سماعت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اسے مفاد عامہ کی عرضی میں تبدیل کر دیا ہے۔یوں تو پورے ملک میں ہی جیلوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔

یہی حال راجدھانی دہلی کے تہاڑ جیل کا بھی ہے،تہاڑ میں قریب 13 سے 14 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی صلاحیت ہے، وہاں پر جیل صلاحیت سے 3 گنا زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں،ان قیدیوں میں سب سے بڑی تعدادزیر التواء قیدیوں کی ہے،جیلوں میں جب بھی بہتری کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے انہیں زیر التواء قیدیوں سے جڑے معاملے سامنے آتے ہیں، لیکن طویل کورٹ میں ان معاملات چلنے کی وجہ زیادہ تر التواء قیدیوں کو کافی طویل وقت جیل میں ہی گزارنا پڑتا ہے۔


Share: